لفنگا کے بلاگ سے چرائی ہوئی نظم
جب بیٹی چوکھٹ پر کھڑی ہو
اور عزت کا بیوپار کرے
جب باپ کی عزت کھو جائے
جب قوم کی غیرت سو جائے
جب بھائی کو طعنے ملتے ہوں
جب بہنوں کے دل جلتے ہوں
جب ماؤں کی نظریں جھک جائیں
جب سانسیں لبوں پہ رک جائیں
جب شرم و حیا کا آمیزہ
جب ایک کنواری دوشیزہ
جب بے شرمی کو اپنا لے
جب خود کو ذلت میں ڈھالے
جب غیر کے سینے لگ جائے
اور اپنا آپ گنوا آئے
تو ایسی حالت کو اے لوگو!
ہم لوگ محبت کہتے ہیں
ابھی تک 2 قارئین نے تبصرہ کیا ہے
Good.
ہم جب تک کسی لڑکی کو کسی لڑکے کی بانہوں میں دیکھ لیں لڑکے نے لڑکی کو خوب چاٹاہو شادی سے پہلے ہی سب کچھ کیا ہوتب ہم محبت سمجھتے ہیں کہ ان میں محبت ہے کڑوی حقیقت کہ ہم نے واقعی میں محبت کو نفس کی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ افسوس۔۔۔۔ محبت تو بہت پاک جزبہ ہوتی ہے۔۔۔ کاش کہ ہم سمجھ سکیں
اس تحریر پر اپنی رائے دیجیے
توجہ فرمائیے ۔ اگر آپ کا تبصرہ ابھی تک شائع نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ منتظم نے آپ کے تبصرے کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے ۔