شگفتہ کے بلاگ سے یہ نظم کاپی کی ہے۔
زندگی کے چہرے کا
نقش جب بگڑ جائے
دوستوں کی آنکھوں میں
دشمنی ابھر آئے
کانچ کی سنہری بات
زیرِ لب بکھر جائے
سخت بے ثباتی ہو
بات بات ذاتی ہو
اس طرح کے موسم میں
آئینہ ضروری ہے
21
Nov
2008
شگفتہ کے بلاگ سے یہ نظم کاپی کی ہے۔
زندگی کے چہرے کا
نقش جب بگڑ جائے
دوستوں کی آنکھوں میں
دشمنی ابھر آئے
کانچ کی سنہری بات
زیرِ لب بکھر جائے
سخت بے ثباتی ہو
بات بات ذاتی ہو
اس طرح کے موسم میں
آئینہ ضروری ہے