کہيں تختہ نہ ہوجاۓ، جبھی اليکشن سے ڈرتے ہو
بناں وردي کے کچھ نہيں، تبھي دم اس کا بھرتے ہو
ذخيرہ اندوزي کي کمائي سے بانٹو خيرات غريبوں ميں
اندر سے ہو بنيۓ، اوپر سے بنےحاجي پھرتے ہو
تیری عياری کے صدقے، صدا رہے سرکاری لیگ ميں
گدھے ہوکر بھي عاقل ہو، سرکاري ميداں ميں چرتے ہو
گر روتے ہو رونا [...]