محبوب کو اُلّو بناتی رہی رات بھر
شراب میں پانی ملاتی رہی رات بھر
عقل دل کو ورغلاتی رہی رات بھر
ہوجاؤ بے ایماں سمجھاتی رہی رات بھر
غربت امیروں کے ہرجائی پن پر
زیرِ لب بڑبڑباتی رہی رات بھر
سیاستدانوں کی فوج وزارت کیلۓ
پاۓ جنرل دباتی رہی رات بھر
میری رشوت ان کی سفارش سے ملکر
منزل کی طرف سرکاتی رہی رات [...]