نہ چھيڑ اے نگہتِ بادِ بہاري راہ لگ اپني
تجھے اٹھکھيلياں سوجھي ہيں ہم بيزار بيٹھے ہيں
نہ چھيڑ اے نگہتِ بادِ بہاري راہ لگ اپني
تجھے اٹھکھيلياں سوجھي ہيں ہم بيزار بيٹھے ہيں
ہر آن ہم کو تجھ بن اک اک برس ہوئي ہے
کيا آگيا زمانہ اے يار رفتہ رفتہ
رہيں گي دمِ مرگ تک خواہشيں
يہ نيت کوئي آج بھر جاۓ گي
کبھي ہے دھيان عارض کا کبھي ئادِ مڎہ دل کو
کبھي ہيں خار پہلو ميں کبھي گلزار پہلو ميں
طبيعت کوئي دن ميں بھر جاۓ گي
چڑھي ہے يہ آندھي اتر جاۓ گي
17
Feb
1981
آج گولڑہ شريف کا عرص تھا۔ آج ميں اور ارشد دونوں پير صاحب کے ہاتھوں پر بيعت لي۔ آج کے بعد ہم اپنے ناموں کيساتھ چشتي گولڑوي لکھ سکيں گے۔
10
Feb
1981
چھوٹے آدمي شخصيات پر، اوسط آدمي واقعات پر اور اعليٰ آدمي نظريات پر بحث کرتے ہيں
بھولا ہي بن کے کام نکلتا ہے گاہ گاہ
بن جاتے ہيں ہم آپ ہي ناداں کبھي کبھي
سرمايۂ شب ہوتے ہيں يوں تو سبھي ستارے
ہر تارہ مگر صبح کا تارہ نہيں ہوتا
آنکھوں پہ بھي کچھ لوگ چڑھا ليتے ہيں آنکھيں
جو پيار سے ديکھے وہ پيارا نہيں ہوتا
نوٹ – اختر نے اپنے خط ميں لکھا