جس محفل ميں شمعٔ علم پر جلے پروانہ وار ہم
یارو جارہے ہیں چھوڑ کے وہ محفلِ بہار ہم
اسی کے دم سے تھیں مسرتیں اسی سے تھا قرار
اسی سے سکونِ دل ملا اسی کے تھے پرستار ہم
معلوم نہ تھا کہ جدا ہونا پڑے گا کسی موڑ پر
ورنہ نہ آتے محفل میں نہ بنتے اس کے یار [...]