نطر بچا کے رکھنا حسینوں سے یہ نصیحت ہے کوئی سزا نہیں
ان متوالے چہروں پہ مت جانا یہ درد ہیں کوئی دوا نہیں
نطر بچا کے رکھنا حسینوں سے یہ نصیحت ہے کوئی سزا نہیں
ان متوالے چہروں پہ مت جانا یہ درد ہیں کوئی دوا نہیں
20
Apr
1976
امتحان کا پرچہ دینے کے بعد آج مجھے احسان اپنے دوست”متاکو” جوہماری ہونے والی بھابی کے گھر کے سامنے رہتا ہے اس کے گھر لے گیا۔ اس نے بھابی کے گھر والوں کو جاکر بتایا اور انہوں نے مجھے گھر بلا لیا۔ بھابی سے سلام دعا ہوئی۔