دو ہفتے پہلے فریضہ اپنی دوستوں کیساتھ سکول سے واپس آرہی تھی تو انہوں نے ہولی نیمز سکول کی گراؤنڈ میں کھیلنا شروع کردیا۔ فریضہ نے ایک نایاب پتھر پکڑا اور پتہ نہیں کیوں درخت پر چڑھنا شروع کردیا۔ پتھر فریضہ کےہاتھ سے چھوٹا اور نیچے کھڑی سپورٹس کار کے بمپر پر آگرا۔ پتھر نے کار کے بمپر پر چھوٹا سا ڈنٹ ڈال دیا۔ لڑکیوں نے اپنے گھر کی طرف پیدل چلنا شروع کردیا، لیکن پتہ نہیں مالک کو کیسے اس حادثے کا معلوم ہوا اور اس نے لڑکیوں کو تھوڑی دور ہی جالیا۔ فریضہ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور آدمی کو گھر نہ بتانے کی بات کررہی تھیں کہ ہمارے پڑوسی کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے رک کر ماجرا پوچھا اور وہ کار کے مالک کو جو سکول کا وائس پرنسپل ہے ہمارے گھر لے آیا۔ وائس پرنسپل تو اپنی کار سے اسقدر محبت جتانے لگا کہ جیسے یہی اس کا سب کچھ ہے۔ کہنے لگا کہ کار اس کو اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز ہے اور وہ انہیں بھی چلانے نہیں دیتا۔ وہ اس چھوٹے سے نشان کی ضرور مرمت کرانا چاہتا ہے۔ تم نے جب دیکھا کہ چھوٹا سا نشان گاڑی پر پڑا ہے اور یہ سوچتے ہوۓ کہ چند ڈالروں میں اس کی مرمت ہوجاۓ گی اس کی قیمت ادا کرنے کی حامی بھر لی۔
چند دنوں بعد جب وہ دو تین کار مرمت کرنے والوں سے مرمت کے اندازے لیکر آیا تو تم نے مرمت کی رقم کو بہت زیادہ جانا اور پھر شام کو مجھ سے بات کی۔ اس کے مطابق اس غلطی کا خمیازہ چار سو ڈالر سے لیکر سات سو ڈالر تک تھا۔
میں نے کچھ دن تو چپ سادھے رکھی اور وائس پرنسپل کو کال بیک نہیں کی۔ سوموار کو آخر کار میری اس سے بات ہوہی گئ اور میں نےاسے کہا کہ وہ اپنی انشورنس سے بات کرے تاکہ وہ کار کی مرمت نو فالٹ کیساتھ کراسکے۔ میں نے اس کی ڈیڈکٹیبل رقم ادا کرنے کی حامی بھرلی جو اس نے بتایا کہ دوسو پچاس ڈالر ہے۔
کل اس نےدوبارہ کال کی اور بتایا کہ نوفالٹ انشورنس کا رول 1999 سے ختم ہوچکا ہے اور اب دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم آپس میں ڈیل کرلیں یا پھر وہ ساٹھ ڈالر دے کر سمال کورٹ میں اپیل کردے۔ میں نے اسے کہا کہ کل وہ میرے گھر آجاۓ اور ہم مل بیٹھ کر تصفیہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
آج شام کو وہ مجھے ملنے آیا تو اس نے کار دکھانے سے پہلے وہ پتھر اپنی جیب سے نکالا جو فریضہ کے ہاتھوں سے اس کی کار پر گرا تھا اور مجھے دکھانے لگا۔ میں نے کار کے بمپر کا ڈنٹ دیکھ کر اسے کہا کہ یہ تو معمولی سا نشان ہے اور اس پر چار سو ڈالر ضائع کرنے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس نے پھر پرانی کہانی دہرائی اور جب میں نے دیکھا کہ جان چھوٹنے والی نہیں ہے تو میں نے اسے پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر میں اسے تین سو ڈالر دے دوں تو باقی کی رقم وہ اپنی جیب سے ڈال کر گاڑی کی مرمت کرالے گا۔ میں نے کہا یہ تو زیادہ ہے میں تمہیں دو سو ڈالر دے سکتا ہوں۔ اس نے کہا چلو اڑھائی سو دے دو۔ میں مان گیا اور اس کو اسی وقت چیک دے کر اپنی چان چھڑائی۔ اس کے بعد اس نے میری فیملی کی تعریف کی اور پھر اجازت لے کر گھر چلا گیا۔