دیکھو مگر میری نظر سے

  • انگریزی بلاگ
  • سرورق
  • تعارف

8

Nov

2006

پتھر اور کار

مصنف: افضل  موضوع: بچے, سبق آموز

دو ہفتے پہلے فریضہ اپنی دوستوں کیساتھ سکول سے واپس آرہی تھی تو انہوں نے ہولی نیمز سکول کی گراؤنڈ میں کھیلنا شروع کردیا۔ فریضہ نے ایک نایاب پتھر پکڑا اور پتہ نہیں کیوں درخت پر چڑھنا شروع کردیا۔ پتھر فریضہ کےہاتھ سے چھوٹا اور نیچے کھڑی سپورٹس کار کے بمپر پر آگرا۔ پتھر نے کار کے بمپر پر چھوٹا سا ڈنٹ ڈال دیا۔ لڑکیوں نے اپنے گھر کی طرف پیدل چلنا شروع کردیا، لیکن پتہ نہیں مالک کو کیسے اس حادثے کا معلوم ہوا اور اس نے لڑکیوں کو تھوڑی دور ہی جالیا۔ فریضہ نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور آدمی کو گھر نہ بتانے کی بات کررہی تھیں کہ ہمارے پڑوسی کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے رک کر ماجرا پوچھا اور وہ کار کے مالک کو جو سکول کا وائس پرنسپل ہے ہمارے گھر لے آیا۔ وائس پرنسپل تو اپنی کار سے اسقدر محبت جتانے لگا کہ جیسے یہی اس کا سب کچھ ہے۔ کہنے لگا کہ کار اس کو اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز ہے اور وہ انہیں بھی چلانے نہیں دیتا۔ وہ اس چھوٹے سے نشان کی ضرور مرمت کرانا چاہتا ہے۔ تم نے جب دیکھا کہ چھوٹا سا نشان گاڑی پر پڑا ہے اور یہ سوچتے ہوۓ کہ چند ڈالروں میں اس کی مرمت ہوجاۓ گی اس کی قیمت ادا کرنے کی حامی بھر لی۔

چند دنوں بعد جب وہ دو تین کار مرمت کرنے والوں سے مرمت کے اندازے لیکر آیا تو تم نے مرمت کی رقم کو بہت زیادہ جانا اور پھر شام کو مجھ سے بات کی۔ اس کے مطابق اس غلطی کا خمیازہ چار سو ڈالر سے لیکر سات سو ڈالر تک تھا۔

میں نے کچھ دن تو چپ سادھے رکھی اور وائس پرنسپل کو کال بیک نہیں کی۔ سوموار کو آخر کار میری اس سے بات ہوہی گئ اور میں نےاسے کہا کہ وہ اپنی انشورنس سے بات کرے تاکہ وہ کار کی مرمت نو فالٹ کیساتھ کراسکے۔ میں نے اس کی ڈیڈکٹیبل رقم ادا کرنے کی حامی بھرلی جو اس نے بتایا کہ دوسو پچاس ڈالر ہے۔ 

کل اس نےدوبارہ کال کی اور بتایا کہ نوفالٹ انشورنس کا رول 1999 سے ختم ہوچکا ہے اور اب دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم آپس میں ڈیل کرلیں یا پھر وہ ساٹھ ڈالر دے کر سمال کورٹ میں اپیل کردے۔ میں نے اسے کہا کہ کل وہ میرے گھر آجاۓ اور ہم مل بیٹھ کر تصفیہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

آج شام کو وہ مجھے ملنے آیا تو اس نے کار دکھانے سے پہلے وہ پتھر اپنی جیب سے نکالا جو فریضہ کے ہاتھوں سے اس کی کار پر گرا تھا اور مجھے دکھانے لگا۔ میں نے کار کے بمپر کا  ڈنٹ دیکھ کر اسے کہا کہ یہ تو معمولی سا نشان ہے اور اس پر چار سو ڈالر ضائع  کرنے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس نے پھر پرانی کہانی دہرائی اور جب میں نے دیکھا کہ جان چھوٹنے والی نہیں ہے تو میں نے اسے پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر میں اسے تین سو ڈالر دے دوں تو باقی کی رقم وہ اپنی جیب سے ڈال کر گاڑی کی مرمت کرالے گا۔ میں نے کہا یہ تو زیادہ ہے میں تمہیں دو سو ڈالر دے سکتا ہوں۔ اس نے کہا چلو اڑھائی سو دے دو۔ میں مان گیا اور اس کو اسی وقت چیک دے کر اپنی  چان چھڑائی۔ اس کے بعد اس نے میری فیملی کی تعریف کی اور پھر اجازت لے کر گھر چلا گیا۔ 

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا

تلاش

موضوعات

  • پبلک (29)
  • ویڈیو (2)
  • ميري پسند (28)
  • معلومات (4)
  • معاشرہ (2)
  • ادب (21)
  • بچے (1)
  • تک بندی (56)
  • حديث (1)
  • دنیا (5)
  • سبق آموز (9)

محفوظات

  • May 2010 (1)
  • February 2010 (1)
  • August 2009 (1)
  • May 2009 (2)
  • April 2009 (3)
  • November 2008 (1)
  • August 2008 (1)
  • July 2008 (5)
  • February 2008 (4)
  • November 2007 (4)
  • October 2007 (1)
  • September 2007 (1)
  • July 2007 (1)
  • May 2007 (1)
  • April 2007 (1)
  • March 2007 (2)
  • February 2007 (1)
  • January 2007 (3)
  • December 2006 (3)
  • November 2006 (6)
  • October 2006 (3)
  • July 2006 (1)
  • June 2006 (1)
  • May 2006 (2)
  • April 2006 (2)
  • October 2005 (3)
  • October 2004 (1)
  • October 2003 (2)
  • October 2002 (2)
  • March 2002 (2)
  • October 2001 (3)
  • October 2000 (2)
  • October 1999 (3)
  • October 1997 (2)
  • October 1996 (3)
  • January 1990 (1)
  • October 1989 (1)
  • October 1988 (1)
  • April 1982 (4)
  • March 1982 (2)
  • October 1981 (1)
  • February 1981 (9)
  • January 1981 (7)
  • January 1980 (1)
  • September 1979 (1)
  • August 1979 (1)
  • April 1979 (3)
  • October 1978 (1)
  • January 1978 (2)
  • November 1977 (1)
  • March 1977 (1)
  • October 1976 (1)
  • September 1976 (3)
  • August 1976 (1)
  • May 1976 (5)
  • April 1976 (2)
  • March 1976 (5)
  • February 1976 (6)
  • January 1976 (4)
  • August 1975 (2)
  • June 1975 (1)
  • May 1975 (1)
  • April 1975 (1)
  • March 1975 (1)
  • December 1974 (1)
  • September 1974 (2)
  • August 1974 (2)
  • July 1974 (1)
  • April 1974 (1)

روابط

  • میرا پاکستان

صفحات

  • تعارف

انتظامیہ

  • Log in
  • تحریروں کا فیڈ
  • تبصروں کا فیڈ
September 2010
M T W T F S S
« May    
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  
© 2007 دیکھو مگر میری نظر سے
Managed by Afzal Javed, Dedicated to My Mom and Dad، Urdu localization by Qadeer Ahmad Rana
Valid XHTML | Valid CSS 3.0
Powered by Wordpress