ہر گھر میں یہی رونا ہے کہ بیوی سمجھتی ہے اس کا شوہر بیوقوف ہے اور وہ عقلمند ہے۔
ہم نے اکثر دیکھا ہے شوہر بات کر رہا ہوگا تو درمیان میں بیوی ٹوک دے گی کہ چھوڑی جی آپ کو کیا پتہ ہے اور پھر اپنی منطق جھاڑنا شروع کردے گی۔
کبھی شوہر گھر کی مرمت کررہا ہوگا اور اس سے گتھی سلجھ نہیں رہی ہوگی اور اگر بیوی نے اتفاق سے شوہر کی مدد کردی تو پھر یہ ضرور شوہر سے اقرار کرواۓ گی کہ وہ سیانی ہے۔
شوہر ڈرائیو کررہا ہوگا اور بیوی راستے میں ایک دوبار اس طرح شوہر سے تصدیق کرواۓ گی کہ وہ ٹھیک راستے پر جارہا ہے یا نہیں، جیسے وہ اکثر راستہ بھول جاتا ہو۔ یا پھر ہر چوتھے پانچویں موڑ پر شوہر سے پوچھے گی کہ یہ موڑ مس تو نہیں کررہے۔ کبھی کبھار تو اس الجھن میں شوہر اکثر موٹر وے سے غلط راستے سے باہر نکل جاتا ہے اور پھر بھی بیوی اسے کوستی ہے کہ میں نہ کہتی تھی کہ گھر سے نقشہ بنا کر چلو۔
شوہر سارا دن مشقت سے تھکا ہارا گھر آۓ گا تو کھانے سے بھی پہلے اسے بیوی کی سارے دن کی روداد سننا پڑے گی جس کا پیغام یہی ہوگا کہ سارا دن کام کر کرکے وہ تھک گئی ہے اور شوہر دل ہی دل میں سوچتا رہ جاۓ گا کہ کاش کبھی بیوی اس سے بھی پوچھ لیتی کہ آج کا دن کیسا رہا۔
شوہر اگر بچوں کی غلطی پر انہیں ڈانٹ پلا دے تو پھر بیوی راستے میں آجاۓ گی اور بچوں کے سامنے ہی آپ کو نصیحتیں کرنا شروع کردے گی کہ بچوں کو پیار سے سمجھانا چاہیۓ۔ بچے دل ہی دل میں ماں کی حرکت پر خوش ہورہے ہوں گے۔ بیوي کوکبھی یہ خیال نہیں آۓ گا کہ وہ ذرا صبر کرلے اور اس طرح کی نصیحت بچوں کے سامنے نہ کرے۔
شوہر بیوی کیلۓ تحفہ نہ لاۓ تو طعنے سنے اور اگر لاۓ پھر بھی طعنے سنے ۔ شوہر اگر بھولے سے کبھی کوئ تحفہ لے بھی آیا تو بیوی پہلے تو قیمت پوچھے گی اور آپ کو بیوقوف ثابت کرنے کیلۓ کہے گی کہ آپ کو تو سودا کرنا ہی نہیں آتا۔ ہزار روپے کی چیز آپ دو ہزار میں لے آۓ۔ اگر بیوی کو قیمت اچھی لگی تو پھر چیز کی کوالٹی اچھی نہیں لگے گی اور آپ کو یہ طعنہ سننا پڑے گا کہ آپ کو تو شاپنگ کرنا ہی نہیں آتی۔ دوسری طرف اگر آپ بیوی کی سالگرہ یا اپنی شادی کی سالگرہ پر پچھلے تجربوں کی بنا پر خالی ہاتھ لوٹے تو پھر آپ کو بیوی کے آنسو پونچھنا پڑیں گے جو رو رو کر یہ کہ رہی ہوگی کہ آپ کو یاد ہے پچھلی دفعہ کب آپ میرے لۓ تحفہ لاۓ تھے۔ آپ کو تو یاد ہی نہیں رہتا کہ آج ہماری سالگرہ ہے۔ یعنی آپ تحفہ لائیں یا نہ لائیں آپ ہر حال میں برے ہیں۔ عقلمند شوہر ایسے مواقعوں پر بیوی کو بازار بھیج دیتے ہیں اور کہتےہیں کہ بھلی مانس اپنی مرضی سے تحفہ لے آ اور خود گھر بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں۔
ایک صاحب اپنی فیملی کیساتھ اپنے سسرال والوں کو ملنے گۓ۔ شاپنگ کے دوران انہیں پتہ نہیں کیا سوجھی کہ سسرالیوں کو کہنے لگے کہ آؤ آج اپنی بیویوں کو جیولری خرید کردیتے ہیں۔ ایک سسرالی ذرا مزاق کے موڈ میں تھے کہنے لگے کہ آپ خود ہی سب کو خرید دیں۔ صاحب نے حامی بھر لی اور وہ سنیارے کی دکان میں گھس گۓ۔ بس پھر کیا تھا ان کی بیوی کا منہ غصے سےلال پیلا ہوگیا اور اس نے تو ادھر ہی شور مچانا شروع کردیا۔ کہنے لگی آپ کی عقل ماری گئ ہے جو بیس پچیس ہزار دوسروں کیلۓ خرچ کررہے ہیں۔ شوہر کہنے لگے کہ بھلی مانس یہ تو مزاق تھا اور وہ کونسے جیولری خرید لیتے۔ مگر بیوی کا دماغ تو غصے میں ساتویں آسمان پر تھا اور اس نے وہ واہی تباہی سب کے سامنے بکی کہ شوہر شرم کے مارے لال پیلے ہوگۓ۔ اگر بیوی عقلمند ہوتی تو سارا تماشا خاموشی سے دیکھتی اور پھر گھر آکر بات کرتی۔ اگر سسرالی کچھ خرید بھی لیتے تو سمجاتی کہ بعد میں ایسا نہ کرنا اور اگر نہ خریدتے تو ایسے مزاق سے منع کر دیتی۔ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا سسرالیوں نے اپنی بہن کو چڑانے کیلۓ پھر سے بات چھیڑ دی اور کہنے لگے کہ یہ آفر قائم ہے اور جیولری کسی وقت بھی خریدی جاسکتی ہے۔ یہ سننا تھا کہ بیوی نے بھر شوہر کوصلواتیں سنائیں اور ساتھ ہی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر لۓ۔ جب سسرالیوں نے بہن کو روتا دیکھا تو انہوں نے چپ سادھ لی ۔
اب اگر آپ کی بیوی اپنے آپ کو آپ سے زیادہ عقلمند سمجھنے لگے تو پھر آپ کیا کریں گے۔ ایک حل تو یہ ہے کہ ہمارے ایک چچا کی طرح خاموشی اختیار کرلیں گےاور سارے جھنجھٹ بیوی کو سونپ دیں گے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ گھر میں ان بن لگی رہنے دیں اور ساری زندگی صبر شکر سے گزار دیں۔ تیسرا حل یہ ہے کہ آپ کو مردانگی دکھانی پڑے گی اور بیوی کو اس کے حقوق یاد دلانا پڑیں گے۔ چوتھا حل یہ ہے کہ بیوی کی طبیعت کر آہستہ آہستہ بدلنا پڑے گا۔
ایک صاحب جو ابھی غیر شادی شدہ تھے اپنے دوست کو بیوی سے جھاڑ کھاتے دیکھا تو فرمانےلگے کہ اگر اس کی بیوی ایسے کرتی تو وہ اسے سبق سکھا دیتے۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان کی بیوی اس سے بھی غصیلی نکلی اور ایک دن ان کے دوست نے دیکھا کہ وہ اپنی بیوي سے جھاڑ کیساتھ ساتھ دھلائی بھی کروا رہے ہیں۔ مجال ہے پھر کبھی انہوں نے کبھی کسی کو نصیحت کی ہو۔
بیوی امیر کی ہو یا غریب کی، حاکم کی ہو یا محکوم کی وہی آپ کے گھر کی مالک ہوتی ہے۔ یونہی نہیں بادشاہوں کی بیویوں کو ملکہ کہا جاتا۔ موجودہ صدور کی بیویاں بھی اپنے انہی کارناموں کی وجہ سے مشہور ہوتی ہیں۔کہتے ہیں امریکی صدر ریگن اپنی بیوی نینسی سے بہت ڈرتے تھے اور سارے فیصلے اسی کے کہنے پر کیا کرتے تھے۔ ہم نے بھی ویسے بڑے بڑے بہادروں کو بیویوں کی کم عقلی کے آگے اپنی جان چھڑاتے دیکھا ہے۔
گھریلو زندگی کو پرسکون بنانےکا آسان نسخہ یہی ہے کہ خاموشی اجتیار کرلو۔ مگر بعض اوقات یہ نسخہ بھی کام نہیں کرتا۔ اگر آپ خاموش رہنا شروع کردیں تو بیوي پھر بھی جان نہیں چھوڑے گی۔ وہ کہے گی باہر جب آپ دوسرے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو آپ کی بتیسی اندر ہی نہیں جاتی اور جب آپ گھر آتے ہیں تو میرےلیۓ آپ کے پاس کرنے کو بات تک نہیں ہوتی۔ اگر آپ کبھی کبھار اس ڈانٹ کے صدقے بول پڑے تو پھر بیوی کہے گی کہ بات کرنے کا پہلے موقع محل دیکھا کرو اور پھر بات کیا کرو۔ کبھی آپ نے بیوی سے مزاق کیا اور اس نے اسے سنجیدہ لے لیا پھر تو آپ کی خیر نہیں۔ آپ کو بیوی کو منانے کیلۓ اتنی منتیں کرنا پڑیں گی کہ آپ مزاق سے توبہ کرلیں گے۔
ایک شوہر اسی طرح کے سیدھے سادھے آدمی تھے جنہوں نے گھر کے معاملات بیوی کے حوالے کر رکھے تھے۔ ہر معاملے میں ان کی بیوی آگے آگے ہوتی تھی اور وہ چپ سادھے تماشہ دیکھتے رہتے تھے ۔ کبھی کبھار جب ان کی بیوی کی کسی معاملے میں دال نہ گلتی تو وہ انہیں کہتی کہ کبھی تو بولا کرو ہر وقت کی خاموشي بھی اچھی نہیں ہوتی۔ ایک دن اسی طرح بیوی نے انہیں بولنے کو کہا اور انہوں نے سچائی سے کام لیتے ہوۓ بیوی کو قصوروار ٹھرا دیا پھر کیا تھا بیوي تو آگ بگولا ہوگئ اور کہنے لگی کہ آپ کو بولنے کی کیا ضرورت تھی شوہر کہنے لگے کہ تم خود ہی تو کہتی ہو کہ کبھی کبھار بولا کرو۔
یہ سچ ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے اور اسے سیدھا کرنا آسان کام نہیں ہے۔ لوگ مثال دیتےہیں کہ کتے کی دم سو سال حقے کی نالی میں رکھو اور جب بھی باہر نکالو گے وہ ٹیڑھی ہی ہوگی۔ ہم کہتے ہیں کہ جب حقے کی نالی ٹیڑھی ہو تو پھر وہ کتے کی دم کو کیا سیدھا کرے گی۔ اس لۓ ہمارا مشورہ یہی ہے کہ دم کو سیدھا کرنے کی بجاۓ آپ اپنی نالی کو پہلے سیدھا کریں یعنی عورت کو سیدھا کرنے سے پہلے اس کو سیدھا کرنے کے گر سیکھیں۔