دیکھو مگر میری نظر سے

  • انگریزی بلاگ
  • سرورق
  • تعارف

20

Nov

2006

عقلمند یا بیوقوف؟

مصنف: افضل  موضوع: معاشرہ

ہر گھر میں یہی رونا ہے کہ بیوی سمجھتی ہے اس کا شوہر بیوقوف ہے اور وہ عقلمند ہے۔

 ہم نے اکثر دیکھا ہے شوہر بات کر رہا ہوگا تو درمیان میں بیوی ٹوک دے گی کہ چھوڑی جی آپ کو کیا پتہ ہے اور پھر اپنی منطق جھاڑنا شروع کردے گی۔

 کبھی شوہر گھر کی مرمت کررہا ہوگا اور اس سے گتھی سلجھ نہیں رہی ہوگی اور اگر بیوی نے اتفاق سے شوہر کی مدد کردی تو پھر یہ ضرور شوہر سے اقرار کرواۓ گی کہ وہ سیانی ہے۔

شوہر ڈرائیو کررہا ہوگا اور بیوی راستے میں ایک دوبار اس طرح شوہر سے تصدیق کرواۓ گی کہ وہ ٹھیک راستے پر جارہا ہے یا نہیں، جیسے وہ اکثر راستہ بھول جاتا ہو۔ یا پھر ہر چوتھے پانچویں موڑ پر شوہر سے پوچھے گی کہ یہ موڑ مس تو نہیں کررہے۔ کبھی کبھار تو اس الجھن میں شوہر اکثر موٹر وے سے غلط راستے سے باہر نکل جاتا ہے اور پھر بھی بیوی اسے کوستی ہے کہ میں نہ کہتی تھی کہ گھر سے نقشہ بنا کر چلو۔

شوہر سارا دن مشقت سے تھکا ہارا گھر آۓ گا تو کھانے سے بھی پہلے اسے بیوی کی سارے دن کی روداد سننا پڑے گی جس کا پیغام یہی ہوگا کہ سارا دن کام کر کرکے وہ تھک گئی ہے اور شوہر دل ہی دل میں سوچتا رہ جاۓ گا کہ کاش کبھی بیوی اس سے بھی پوچھ لیتی کہ آج کا دن کیسا رہا۔

شوہر اگر بچوں کی غلطی پر انہیں ڈانٹ پلا دے تو پھر بیوی راستے میں آجاۓ گی اور بچوں کے سامنے ہی آپ کو نصیحتیں کرنا شروع کردے گی کہ بچوں کو پیار سے سمجھانا چاہیۓ۔ بچے دل ہی دل میں ماں کی حرکت پر خوش ہورہے ہوں گے۔ بیوي کوکبھی یہ خیال نہیں آۓ گا کہ وہ ذرا صبر کرلے اور اس طرح کی نصیحت بچوں کے سامنے نہ کرے۔

شوہر بیوی کیلۓ تحفہ نہ لاۓ تو طعنے سنے اور اگر لاۓ پھر بھی طعنے سنے ۔ شوہر اگر بھولے سے کبھی کوئ تحفہ لے بھی آیا تو بیوی پہلے تو قیمت پوچھے گی اور آپ کو بیوقوف ثابت کرنے کیلۓ کہے گی کہ آپ کو تو سودا کرنا ہی نہیں آتا۔ ہزار روپے کی چیز آپ دو ہزار میں لے آۓ۔ اگر بیوی کو قیمت اچھی لگی تو پھر چیز کی کوالٹی اچھی نہیں لگے گی اور آپ کو یہ طعنہ سننا پڑے گا کہ آپ کو تو شاپنگ کرنا ہی نہیں آتی۔ دوسری طرف اگر آپ بیوی کی سالگرہ یا اپنی شادی کی سالگرہ پر پچھلے تجربوں کی بنا پر خالی ہاتھ لوٹے تو پھر آپ کو بیوی کے آنسو پونچھنا پڑیں گے جو رو رو کر یہ کہ رہی ہوگی کہ آپ کو یاد ہے پچھلی دفعہ کب آپ میرے لۓ تحفہ لاۓ تھے۔ آپ کو تو یاد ہی نہیں رہتا کہ آج ہماری سالگرہ ہے۔ یعنی آپ تحفہ لائیں یا نہ لائیں آپ ہر حال میں برے ہیں۔ عقلمند شوہر ایسے مواقعوں پر بیوی کو بازار بھیج دیتے ہیں اور کہتےہیں کہ بھلی مانس اپنی مرضی سے تحفہ لے آ اور خود گھر بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں۔ 

ایک صاحب اپنی فیملی کیساتھ اپنے سسرال والوں کو ملنے گۓ۔ شاپنگ کے دوران انہیں پتہ نہیں کیا سوجھی کہ سسرالیوں کو کہنے لگے کہ آؤ آج اپنی بیویوں کو جیولری خرید کردیتے ہیں۔ ایک سسرالی ذرا مزاق کے  موڈ میں تھے کہنے لگے کہ آپ خود ہی سب کو خرید دیں۔ صاحب نے حامی بھر لی اور وہ سنیارے کی دکان میں گھس گۓ۔ بس پھر کیا تھا ان کی بیوی کا منہ غصے سےلال پیلا ہوگیا اور اس نے تو ادھر ہی شور مچانا شروع کردیا۔ کہنے لگی آپ کی عقل ماری گئ ہے جو بیس پچیس ہزار دوسروں کیلۓ خرچ کررہے ہیں۔ شوہر کہنے لگے کہ بھلی مانس یہ تو مزاق تھا اور وہ کونسے جیولری خرید لیتے۔ مگر بیوی کا دماغ تو غصے میں ساتویں آسمان پر تھا اور اس نے وہ واہی تباہی سب کے سامنے بکی کہ شوہر شرم کے مارے لال پیلے ہوگۓ۔ اگر بیوی عقلمند ہوتی تو سارا تماشا خاموشی سے دیکھتی اور پھر گھر آکر بات کرتی۔ اگر سسرالی کچھ خرید بھی لیتے تو سمجاتی کہ بعد میں ایسا نہ کرنا اور اگر نہ خریدتے تو ایسے مزاق سے منع کر دیتی۔ معاملہ یہیں پر ختم نہیں ہوا سسرالیوں نے اپنی بہن کو چڑانے کیلۓ پھر سے بات چھیڑ دی اور کہنے لگے کہ یہ آفر قائم ہے اور جیولری کسی وقت بھی خریدی جاسکتی ہے۔ یہ سننا تھا کہ بیوی نے بھر شوہر کوصلواتیں سنائیں اور ساتھ ہی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر لۓ۔ جب سسرالیوں نے بہن کو روتا دیکھا تو انہوں نے چپ سادھ لی ۔

اب اگر آپ کی بیوی اپنے آپ کو آپ سے زیادہ عقلمند سمجھنے لگے تو پھر آپ کیا کریں گے۔ ایک حل تو یہ ہے کہ ہمارے ایک چچا کی طرح خاموشی اختیار کرلیں گےاور سارے جھنجھٹ بیوی کو سونپ دیں گے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ گھر میں ان بن لگی رہنے دیں اور ساری زندگی صبر شکر سے گزار دیں۔ تیسرا حل یہ ہے کہ آپ کو مردانگی دکھانی پڑے گی اور بیوی کو اس کے حقوق یاد دلانا پڑیں گے۔ چوتھا حل یہ ہے کہ بیوی کی طبیعت کر آہستہ آہستہ بدلنا پڑے گا۔

ایک صاحب جو ابھی غیر شادی شدہ تھے اپنے دوست کو بیوی سے جھاڑ کھاتے دیکھا تو فرمانےلگے کہ اگر اس کی بیوی ایسے کرتی تو وہ اسے سبق سکھا دیتے۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ ان کی بیوی اس سے بھی غصیلی نکلی اور ایک دن ان کے دوست نے دیکھا کہ وہ اپنی بیوي سے جھاڑ کیساتھ ساتھ دھلائی بھی کروا رہے ہیں۔ مجال ہے پھر کبھی انہوں نے کبھی کسی کو نصیحت کی ہو۔ 

بیوی امیر کی ہو یا غریب کی، حاکم کی ہو یا محکوم کی وہی آپ کے گھر کی مالک ہوتی ہے۔ یونہی نہیں بادشاہوں کی بیویوں کو ملکہ کہا جاتا۔ موجودہ صدور کی بیویاں بھی اپنے انہی کارناموں کی وجہ سے مشہور ہوتی ہیں۔کہتے ہیں امریکی صدر ریگن اپنی بیوی نینسی سے بہت ڈرتے تھے اور سارے فیصلے اسی کے کہنے پر کیا کرتے تھے۔ ہم نے بھی ویسے بڑے بڑے بہادروں کو بیویوں کی کم عقلی کے آگے اپنی جان چھڑاتے دیکھا ہے۔ 

گھریلو زندگی کو پرسکون بنانےکا آسان نسخہ یہی ہے کہ خاموشی اجتیار کرلو۔ مگر بعض اوقات یہ نسخہ بھی کام نہیں کرتا۔ اگر آپ خاموش رہنا شروع کردیں تو بیوي پھر بھی جان نہیں چھوڑے گی۔ وہ کہے گی باہر جب آپ دوسرے لوگوں سے بات کرتے ہیں تو آپ کی بتیسی اندر ہی نہیں جاتی اور جب آپ گھر آتے ہیں تو میرےلیۓ آپ کے پاس کرنے کو بات تک نہیں ہوتی۔ اگر آپ کبھی کبھار اس ڈانٹ کے صدقے بول پڑے تو پھر بیوی کہے گی کہ بات کرنے کا پہلے موقع محل دیکھا کرو اور پھر بات کیا کرو۔ کبھی آپ نے بیوی سے مزاق کیا اور اس نے اسے سنجیدہ لے لیا پھر تو آپ کی خیر نہیں۔ آپ کو بیوی کو منانے کیلۓ اتنی منتیں کرنا پڑیں گی کہ آپ مزاق سے توبہ کرلیں گے۔

ایک شوہر اسی طرح کے سیدھے سادھے آدمی تھے جنہوں نے گھر کے معاملات بیوی کے حوالے کر رکھے تھے۔ ہر معاملے میں ان کی بیوی آگے آگے ہوتی تھی اور وہ چپ سادھے تماشہ دیکھتے رہتے تھے ۔ کبھی کبھار جب ان کی بیوی کی کسی معاملے میں دال نہ گلتی تو وہ انہیں کہتی کہ کبھی تو بولا کرو ہر وقت کی خاموشي بھی اچھی نہیں ہوتی۔ ایک دن اسی طرح بیوی نے انہیں بولنے کو کہا اور انہوں نے سچائی سے کام لیتے ہوۓ بیوی کو قصوروار ٹھرا دیا پھر کیا تھا بیوي تو آگ بگولا ہوگئ اور کہنے لگی کہ آپ کو بولنے کی کیا ضرورت تھی شوہر کہنے لگے کہ تم خود ہی تو کہتی ہو کہ کبھی کبھار بولا کرو۔

یہ سچ ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے اور اسے سیدھا کرنا آسان کام نہیں ہے۔ لوگ مثال دیتےہیں کہ کتے کی دم سو سال حقے کی نالی میں رکھو اور جب بھی باہر نکالو گے وہ ٹیڑھی ہی ہوگی۔ ہم کہتے ہیں کہ جب حقے کی نالی ٹیڑھی ہو تو پھر وہ کتے کی دم کو کیا سیدھا کرے گی۔ اس لۓ ہمارا مشورہ یہی ہے کہ دم کو سیدھا کرنے کی بجاۓ آپ اپنی نالی کو پہلے سیدھا کریں یعنی عورت کو سیدھا کرنے سے پہلے اس کو سیدھا کرنے کے گر سیکھیں۔ 

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا

13

Nov

2006

ہم سست لوگ

مصنف: افضل  موضوع: معاشرہ

آج جب میں شاہد صاحب کے پاس ان کے والد صاحب کی وفات پر تعزیت کرنے گیا تو دو چار دوسرے دوست پہلے ہی ادھر فاتحہ خوانی کیلۓ بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک دوست ناصر صاحب گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا تھے اور اپنی بیماری کے بارے ميں بتا رہے تھے۔ ان کو ایسی بیماری ہے جس میں ٹانگیں سوج جاتی ہیں اور اگر وہ زیادہ دیر کھڑے رہیں تو بعض اوقات ان کی خون کی رگیں پھٹ جاتی ہیں۔ انہیں ڈاکٹر نے مکمل بیڈ ریسٹ کیلۓ کہا ہوا ہے۔ دراصل وہ ایک سال سے ایک موٹل میں فرنٹ ڈیسک پر کام کررہے تھے اور ان کا زیادہ تر کام کھڑے رہنے والا ہوتا تھا۔ بقول ڈاکٹر کے ان کی عمر جوکہ پچاس سال سے اوپر ہے اور کام کی نوعیت بیماری کی وجہ ہے۔

 جب ناصر صاحب اٹھ کر چلے گۓ تو عرفان صاحب فرمانے لگے کہ صحت کی نعمت کی قدر اس طرح کے بیمار آدمی کو دیکھ کر ہی ہوتی ہے۔ اب ہم عمر کے ایک ایسے حصے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں بیماری کسی وقت بھی حملہ کرسکتی ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم کسی بیماری کا شکار ہوجائیں ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہئیں۔۔ ہمیں چاہۓ کہ ہم باقاعدگی سے ورزش کیا کریں اور اپنی خوراک کا خیال رکھیں۔

پوچھنےپر معلوم ہوا کہ سواۓ میرے کوئی بھی ورزش باقاعدگی سے نہیں کرتا۔ میں نے سب کو اپنے تجربے کی بنا پر بتایا کہ ورزش سے آدمی توانا محسوس کرتا ہے اورورزش ڈیپریشن کا بھی آزمودہ نسخہ ہے۔ میں نے جب بھی ورزش چھوڑی اپنے آپ کو تھکا تھکا اور کمزور محسوس کیا اور جب بھی دوبارہ ورزش شروع کی ایک ہفتے میں ہی ٹانگوں میں جان پڑ گئ۔ اب میں باقاعدگی سے ہفتے میں چار پانچ دفعہ گھر پر ورزش کرتا ہوں۔ پہلے بیس منٹ ٹریڈ مل پر دوڑ لگاتا ہوں پھر پانچ منٹ کیلۓ ہلکی پھلکی ورزش کرتا ہوں۔ آپ لوگ ورزش شروع کرکے دیکھۓ کہ کیسے جوانی لوٹ کر آتی ہے۔

بعد میں مشتاق صاحب نے یہ بھی شکوہ کیا کہ اب پاکستان میں کھیل کے میدان بھی ناپید ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن میں نے کہا کہ یہ سب بہانے ہیں اگر کچھ کرنا ہو تو کوئی بہانہ آپ کے ہاتھ نہیں روکے گا اور اگر کچھ نہیں کرنا تو پھر سو بہانے گھڑے جاسکتے ہیں۔ اصل مسٔلہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور کیبل نے بچوں اور جوانوں کو گھروں میں قید کرکے رکھ دیا ہے۔ اب بچے کم ہی باہر کھیلنے کیلۓ نکلتے ہیں۔ ایک وقت تھا مینارِ پاکستان کے ارد گرد چھ چھ ٹیمیں پریکٹس کررہی ہوتی تھیں اب میدان خالی ہیں اور کھلاڑی گھروں میں بیٹھے وڈیو گیمز کھیل رہے ہیں۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں ہوا

تلاش

موضوعات

  • پبلک (29)
  • ویڈیو (2)
  • ميري پسند (28)
  • معلومات (4)
  • معاشرہ (2)
  • ادب (21)
  • بچے (1)
  • تک بندی (56)
  • حديث (1)
  • دنیا (5)
  • سبق آموز (9)

محفوظات

  • May 2010 (1)
  • February 2010 (1)
  • August 2009 (1)
  • May 2009 (2)
  • April 2009 (3)
  • November 2008 (1)
  • August 2008 (1)
  • July 2008 (5)
  • February 2008 (4)
  • November 2007 (4)
  • October 2007 (1)
  • September 2007 (1)
  • July 2007 (1)
  • May 2007 (1)
  • April 2007 (1)
  • March 2007 (2)
  • February 2007 (1)
  • January 2007 (3)
  • December 2006 (3)
  • November 2006 (6)
  • October 2006 (3)
  • July 2006 (1)
  • June 2006 (1)
  • May 2006 (2)
  • April 2006 (2)
  • October 2005 (3)
  • October 2004 (1)
  • October 2003 (2)
  • October 2002 (2)
  • March 2002 (2)
  • October 2001 (3)
  • October 2000 (2)
  • October 1999 (3)
  • October 1997 (2)
  • October 1996 (3)
  • January 1990 (1)
  • October 1989 (1)
  • October 1988 (1)
  • April 1982 (4)
  • March 1982 (2)
  • October 1981 (1)
  • February 1981 (9)
  • January 1981 (7)
  • January 1980 (1)
  • September 1979 (1)
  • August 1979 (1)
  • April 1979 (3)
  • October 1978 (1)
  • January 1978 (2)
  • November 1977 (1)
  • March 1977 (1)
  • October 1976 (1)
  • September 1976 (3)
  • August 1976 (1)
  • May 1976 (5)
  • April 1976 (2)
  • March 1976 (5)
  • February 1976 (6)
  • January 1976 (4)
  • August 1975 (2)
  • June 1975 (1)
  • May 1975 (1)
  • April 1975 (1)
  • March 1975 (1)
  • December 1974 (1)
  • September 1974 (2)
  • August 1974 (2)
  • July 1974 (1)
  • April 1974 (1)

روابط

  • میرا پاکستان

صفحات

  • تعارف

انتظامیہ

  • Log in
  • تحریروں کا فیڈ
  • تبصروں کا فیڈ
September 2010
M T W T F S S
« May    
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  
© 2007 دیکھو مگر میری نظر سے
Managed by Afzal Javed, Dedicated to My Mom and Dad، Urdu localization by Qadeer Ahmad Rana
Valid XHTML | Valid CSS 3.0
Powered by Wordpress