اٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ماندہ بدن اپنا
کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا
ترکی شعر کا مشہور مصرع تو سن رکھا تھا مگر مکمل شعر آج خاور صاحب کے بلاگ پر پڑھنے کو ملا۔
زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
چه خوش بودے اگر بودے زبانش در دہن من
11
Aug
2009
یہ مصرع تو بہت پہلے سے سن رکھا تھا مگر پورا شعر آج اداکار شاہ رخ کی زبانی سنا۔
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
19
May
2009
کن نیندوں سو رہی ہے تو اے چشم نیم باز
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
6
May
2009
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
17
Apr
2009
لفنگا کے بلاگ سے چرائی ہوئی نظم
جب بیٹی چوکھٹ پر کھڑی ہو
اور عزت کا بیوپار کرے
جب باپ کی عزت کھو جائے
جب قوم کی غیرت سو جائے
جب بھائی کو طعنے ملتے ہوں
جب بہنوں کے دل جلتے ہوں
جب ماؤں کی نظریں جھک جائیں
جب سانسیں لبوں پہ رک جائیں
جب شرم و حیا کا آمیزہ
جب ایک کنواری دوشیزہ
جب بے شرمی کو اپنا لے
جب خود کو ذلت میں ڈھالے
جب غیر کے سینے لگ جائے
اور اپنا آپ گنوا آئے
تو ایسی حالت کو اے لوگو!
ہم لوگ محبت کہتے ہیں
17
Apr
2009
کس دا دوش سی کس دا نئیں سی
اے گلاں ہُن کرن دیاں نئیں
ویلے لنگ گئے ہُن توبہ والے
راتاں ہُن ہوکے بھرن دیاں نئیں
جو ہویا او تے ہونا ہی سی
تے ہونیاں روکے رکدیاں نئیں
اک واری جَد شروع ہو جاوے
تےگل فیر ایویں مُکدی نئیں
کج انج وی راہواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سَن
کج سانوں مرن دا شوق وی سی
کچے کوٹھیاں نوں جے کر لپیے ناں
تے آخر ٹہندیاں ٹہندیاں ٹہ جاندے
ویلے سر ناں جنہاں دے ویاہ ہوندے
او آخر رہندیاں رہندیاں رہ جاندے
21
Nov
2008
شگفتہ کے بلاگ سے یہ نظم کاپی کی ہے۔
زندگی کے چہرے کا
نقش جب بگڑ جائے
دوستوں کی آنکھوں میں
دشمنی ابھر آئے
کانچ کی سنہری بات
زیرِ لب بکھر جائے
سخت بے ثباتی ہو
بات بات ذاتی ہو
اس طرح کے موسم میں
آئینہ ضروری ہے
سٹار وائس آف انڈیا 2009 کے دوسرے شو میں ایک اپاہج گلوکار ذاکر حسین نے گانا گایا تو سب نے اٹھ کر داد دی اور ایک جج سکھوندر سنگھ نے اس کا حوصلہ بڑھانے کیلیے ایک شعر بھی پڑھا۔
ارے پربت تو کل تک جس کی لاچاری پہ ہنستا تھا
تیری چوٹی پہ بیٹھا ہے وہی بیساکھیاں لے کر
اس سے اگلے پروگرام میں جب یہی گلوکار ذاکر حسین حاضر ہوئے تو انہوں نے یہ قطعہ پڑھا
منزلیں انہی کی ہوتی ہیں
جن کے سپنوں میں جان ہوتی ہے
پنکھوں سے کحھ نہیں ہوتا دوستو
حوصلوں سے اوڑان ہوتی ہے
اس کے جواب میں سکھوندر سنگھ نے یہ شعر پڑھا
پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے
| M | T | W | T | F | S | S |
|---|---|---|---|---|---|---|
| « May | ||||||
| 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | ||
| 6 | 7 | 8 | 9 | 10 | 11 | 12 |
| 13 | 14 | 15 | 16 | 17 | 18 | 19 |
| 20 | 21 | 22 | 23 | 24 | 25 | 26 |
| 27 | 28 | 29 | 30 | |||