ایک شخص بچے کا ہاتھ تھامے حجام کی دکان میں داخل ہوا۔
اس نے پہلے بال کٹوائے پھر شیو بنوائی، ناخن ترشوائے پھر بچے کو کرسی پر بیٹھا کر حجام سے کہا کہ “منے کے بال کاٹو ،میں ابھی سوداسلف لے کر آتا ہوں”۔
حجام بچے کے بال کاٹنے کے بعد دیر تک اِس شخص کا انتظار کرتا رہا۔ وہ شخص نہیں آیا۔
آخر حجام نے تنگ آکر بچے سے کہا “معلوم نہیں تمہارے ابا کہاں چلے گئے”۔
بچے نے کہا “وہ میرے ابا نہیں تھے”۔
میں تو گلی میں کھیل رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آﺅ تمہارے بال مفت میں کٹوا دیں”۔
17
Jan
16
Jan
ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا ابا جان ہم ہوائی جہاز کے ذریعے اللہ میاں کے پاس پہنچ سکتے ہیں ۔ بیٹا اسکے لیے گاڑی بھی کافی ہے ۔ بس شرط یہ ہے وہ گاڑی آپ کی امی چلا رہی ہوں
15
Jan
ایک بھکاری صدا لگا رہا تھا کہ دو روپے کا سوال ہے بابا۔ ۔ایک ادمی نے بھکاری سے پوچھا صرف دو روپے ہی کیوں ؟ بابو میں لوگوں کی اوقات دیکھ کر ہی مانگتا ہوں
14
Jan
کرائے دار مالک مکان سے میں اس ماہ بھی کرایہ نہیں دے پاوں گا ۔ مالک مکان یہ تو تم نے پیچھلے ماہ بھی کہا تھا۔ کرائے دار۔ حضور انسان کی ایک زبان ہونی چاہے سو میں اپنی زبان پر قائم ہوں
12
Jan
لڑکے نے اپنی منگیتر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے منگنی کی انگوٹھی دیکھ کر پوچھا ۔ جان کیا تمھاری سہلیوں نے اس انگوٹھی کی تعریف کی منگیتر ہاں کیوں نہیں بلکہ پانچ چھ تو اسے پہچان بھی گئیں