لطائف

ہنسنے ہنسانے کے بہانے

وکیل “قتل کی رات تمہارے خاوند نے آخری الفاظ کون سے بولے؟”۔

بیوی “میری عینک کہاں ہے نیلو؟”۔

وکیل “تو اس میں غصہ کرنے والی کونسی بات تھی؟”۔

بیوی “لیکن میرا نام تو رضیہ ہے”۔

میاں بیوی ہر سال عوامی میلے میں جایا کرتے تھے اور جب بھی میاں ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کی خواہش ظاہر کرتا بیوی فوراً اسے کہتی میاں پانچ ہزار روپے لگیں گے اور تمہیں پتہ ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔

ایک دن میاں بولا بیگم اب میں پچاسی برس کا ہو چکا ہوں اور اس دفعہ میں نے ہیلی کاپٹر کی سیر نہ کی تو ہو سکتا ہے میری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکے۔ بیوی بولی میاں تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ ہیلی کاپٹر کا کپتان ان کی باتیں سن رہا تھا۔ اسے بوڑھے پر ترس آیا اور ان سے بولا میں ایک شرط پر آپ کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرا سکتا ہوں کہ آپ تمام راستے میں خاموش رہیں گے اور اگر کسی نے بھی منہ کھولا تو پانچ ہزار روپے دینے پڑیں گے۔

کپتان نے بوڑھے میاں بیوی کو ہیلی کاپٹر میں بٹھاتے ہی خوب تماشے کئے مگر وہ میاں بیوی کے منہ سے ایک بھی لفظ نہ نکلوا سکا۔ جب کپتان زمین پر اترا تو اس نے بوڑھے سے کہا کہ میں نے تو ہزار کوشش کی کہ آپ لوگ بولیں مگر آپ خاموش رہے، کیوں؟

بوڑھا بولا، کپتان جب تم نے ہمیں بلانے کیلیے پہلا کرتب دکھایا تو میری بیوی باہر گر گئی مگر ميں خاموش رہا کیوں کہ تمہیں معلوم ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔

ایک رات بیوی کی آنکھ کھلی تو میاں کو بستر سے غائب پایا۔ وہ نیچے کچن میں گئی تو میاں چائے کا کپ پکڑے روئے جا رہا تھا۔ بیگم نے میاں کے آنسو پونچھے اور اس کی چائے کا گھونٹ بھر کو بولی، میاں خیر تو ہے؟

میاں بولا بیگم تمہیں یاد ہے کہ جب بیس سال قبل جب ہم کالج میں اکٹھے پڑھتے تھے اور ایک دن تمہارے تھانیدار باپ نے ہمیں ایک ساتھ دیکھ کر مجھے کہا تھا کہ یا تو میری بیٹي سے شادی کر لویا پھر بیس سال کیلیے جیل جانے کیلیے تیار ہو جاؤ۔

بیوی بولی ہاں مجھے یاد ہے۔

خاوند بولا میں سوچ رہا ہوں اگر میں تمہارے باپ کی بات نہ مانتا تو اب تک میں جیل سے رہا ہو چکا ہوتا۔

ایک سردار صاحب ریلوے سٹیشن سے ٹانگے پر بیٹھے اور کوچوان سے بولے فلاں پتے پر لے چلو۔ سردار صاحب ٹانگے سے اترے، دروازہ کھٹکھٹایا اور دوسرے سردار سے ابھی دو باتیں ہی کی تھیں کہ میزبان نے مہمان کو پیٹنا شروع کر دیا۔ میزبان کی ٹوپی اتر گئی اور دھوتی کھلنے والی تھی کہ وہ واپس ٹانگے میں آ کر بیٹھ گئے اور کوچوان سے بولے چلو واپس سٹیشن لے چلو۔

کوچوان “سردار جی اگر یہی کام کروانا تھا تو پھر اتنی دور آنے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کا یہ کام تو میں اسٹیشن پر ہی کر سکتا تھا”۔

ایک سکھ کی میت پر اس کی بیوی اپنے چھوٹے بیٹے کیساتھ کھڑی بین کر رہی تھی۔

وے توں اوتھے ٹر گیاں ایں جتھے دیوا ناں بتی

وے توں اوتھے ٹر گیا ایں جتھے منجھی ناں پیڑھی

وے توں اوتھے ٹر گیا ایں جتھے آٹا ناں روٹی

عورت کا بیٹا بولا “ماں، ابا کہیں پاکستان تو نہیں چلا گیا”۔