لطائف

ہنسنے ہنسانے کے بہانے

ایک شخص بچے کا ہاتھ تھامے حجام کی دکان میں داخل ہوا۔
اس نے پہلے بال کٹوائے پھر شیو بنوائی، ناخن ترشوائے پھر بچے کو کرسی پر بیٹھا کر حجام  سے کہا کہ “منے کے بال کاٹو ،میں ابھی سوداسلف لے کر آتا ہوں”۔
حجام بچے کے بال کاٹنے کے بعد دیر تک اِس شخص کا انتظار کرتا رہا۔ وہ شخص نہیں آیا۔
آخر حجام نے تنگ آکر بچے سے کہا “معلوم  نہیں تمہارے ابا کہاں چلے گئے”۔
بچے نے کہا “وہ میرے ابا نہیں تھے”۔
میں تو گلی میں کھیل رہا تھا۔ انہوں نے  مجھ سے کہا کہ آﺅ تمہارے بال مفت میں کٹوا دیں”۔

ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا ابا جان ہم ہوائی جہاز کے ذریعے اللہ میاں کے پاس پہنچ سکتے ہیں ۔ بیٹا اسکے لیے گاڑی بھی کافی ہے ۔ بس شرط یہ ہے وہ گاڑی آپ کی امی چلا رہی ہوں

ایک بھکاری صدا لگا رہا تھا کہ دو روپے کا سوال ہے بابا۔ ۔ایک ادمی نے بھکاری سے پوچھا صرف دو روپے ہی کیوں ؟ بابو میں لوگوں کی اوقات دیکھ کر ہی مانگتا ہوں

کرائے دار مالک مکان سے میں اس ماہ بھی کرایہ نہیں دے پاوں گا ۔ مالک مکان یہ تو تم نے پیچھلے ماہ بھی کہا تھا۔ کرائے دار۔ حضور انسان کی ایک زبان ہونی چاہے سو میں اپنی زبان پر قائم ہوں

لڑکے نے اپنی منگیتر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے منگنی کی انگوٹھی دیکھ کر پوچھا ۔ جان کیا تمھاری سہلیوں نے اس انگوٹھی کی تعریف کی منگیتر ہاں کیوں نہیں بلکہ پانچ چھ تو اسے پہچان بھی گئیں